بنگلورو، 27؍ مئی (ایس او نیوز) عوامی تحریکوں میں 103 سال کی عمر میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لینے والے جنگ آزادی کے مجاہد ایچ ایس دورے سوامی چہارشنبہ کی صبح دل کا دورہ پرنے سے انتقال کر گئے ۔
دورے سوامی گزشتہ ماہ مہلک وبا کووڈ۔ 19 سے متاثر ہوئے تھے اور علاج کے بعد صحت یاب ہو کر گھر لوٹے تھے۔ کل سانس لینے میں تکلیف کی وجہ سے انہیں دوبارہ اسپتال میں داخل کیا گیا تھا۔ جہاں صبح انہوں نے آخری سانسیں لیں۔
ایچ ایس دورے سوامی نے این آر سی، سی اے اے کے خلاف بلال باغ، فریڈم پارک اور میسورو روڈ کے کئی جلسوں میں بھی شرکت کی تھی۔ اپنے سیکولر نظریات کی وجہ سے وہ عوام الناس میں کافی مقبول تھے۔
10اپریل 1918 کو ایچ ایس دورے سوامی کنکاپورہ تعلقہ کے ہاروہلی دیہات میں پیدا ہوئے تھے۔
انہوں نے مہاتما گاندھی کے ساتھ جنگ آزادی میں انگریزوں کے خلاف ’’ ہندوستان چھوڑو‘‘ تحریک پورے کرناٹک میں چلائی تھی۔ آزادی کے بعد بھی مسلسل وہ مختلف عوامی تحریکوں میں حصہ لیتے رہے اور آخری وقت تک انہوں نے عوامی تحریکوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔
ایچ ایس دورے سوامی نے 1942 میں بی ایس سی گریجویش مکمل کیا تھا اور کچھ عرصہ تک لکچرارس کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دی تھیں۔ پھر گاندھی جی کی ’’ ہندوستان چھوڑو‘‘ تحریک سے متاثر ہو کر ریاستی کرناٹک میں مختلف تحریکوں میں حصہ لیا تھا۔ انہیں 14 ماہ کیلئے جیل میں رکھا گیا تھا۔ جیل کے اندر بھی انہوں نے انگریزوں کے خلاف جنگ آزادی کی تحریک جاری رکھی تھی۔ ساری زندگی انہوں نے گاندھی وادی بن کر سادگی سے ہی اپنی زندگی گزاری ۔ اس دوران انہوں نے صحافت بھی شروع کی تھی اور اپنا ایک بک اسٹور بھی قائم کیا تھا۔
مجاہد آزادی دورے سوامی کی موت پر وزیر اعلیٰ بی ایس یڈیورپا ، سابق وزیر اعلیٰ سدارامیا ، کے پی سی سی صدر ڈی کے شیو کمار ، کسان لیڈرس و مسلم قائدین اور علما نے بھی اظہار تعزیت کیا ہے۔ سی ایم ابراہیم ، بی زیڈ ضمیر احمد خان، سلیم احمد، یوٹی قادر، تنویر سیٹھ وغیرہ نے بھی ان کی وفات پر تعزیتی پیغامات روانہ کئے ہیں۔